پیرس کیوں جل رہا ہے؟ - Youth Forum

Search
Go to content

Main menu:

پیرس کیوں جل رہا ہے؟

پیرس کیوں جل رہا ہے؟
تحریر ندیم حیدر۔ ایم فل ماس کمیو نیکیشن
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں آٹھ مقام پر حملہ کر کے ایک سو اٹھا ئیس کے قریب افراد کو ابدی نیند سلا دیا گیا۔ حملہ کو دولت اسلامیہ سے منسوب کیا گیاہے اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ فرانس کی شام میں مداخلت کے پیش نظر داعش کی جانب سے انتقام لیا گیا ہے۔تحقیقات  جاری ہیں اور  مختلف اداروں کے ماہرین  اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ یہ حملہ کیوں ہوا اور اتنی آسانی سے دہشت گرد آٹھ مقامات پر اسلحہ لے کر اتنی آسانی سے کیسے پہنچ گئے۔ خود کش جیکٹس ، خود کار ہتھیار ،بارودی  موادلے کر یہ اافراد پورے شہر میں گھومتے رہے اور انہیں کسی نے روکا نہیں پیرس کےسیکیورٹی انٹیلی جینس آخر کہاں تھے ان سب کی تحقیقات تو  خیرہونی ہیں۔ تاہم اس واقعہ سے یہ بات واضع ہو گئی ہے کہ دہشت گردوں اب اتنے مضبوط ہو چکے ہیں کہ وہ دنیا میں جب جہاں چاہیں تباہی پھیلا سکتے ہیں۔ یہ بات بہت تشویش ناک ہے مگر اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جس چیز کی اجازت انسانیت نہ دے، دنیا کا کوئی مذہب نہتے انسانوں کو ظلم کی انتہا ءکہے اس کے علاوہ شام میں ہونے والی جنگ میں بھی اس کا نقصان دکھائی دے آخر کار ایسی درندگی دکھانے والوں کے ساتھ پوری دنیا نفرت کا اظہار کرے گی  تو ایسی صورتحال میں آخر ایسا کیا فائدہ ہے جو اس انسانیت سوز حملہ کے نتیجہ میں اس کے پیچھے طاقتوں کو ہوا۔ فائدہ تو انہیں کو معلوم ہو گا جو عناصر یہ کام کرواتے ہیں مگر یہ انسان آج اتنا نہیں گرایہ ایک مخصوص گروہ ہے جو کہ ہر دور میں سر اٹھاتا ہے اسلام میں اس کو خوارج کہا گیا۔خوارج دراصل ایک سوچ کا نام ہے جب  انسان انسانیت کا لبادہ اتار دیتا ہے اوراتنا گر جاتا ہے کہ اسے کسی جانور سے تشبیہ بھی نہیں  دی جاسکتی۔ اور ایک بات یاد رکھیں خوارج خود کو ظاہر مسلمان کرتے ہیں مگر ان کا اسلام سے دوردور تک واسطہ نہیں ہوتا مگر ان حملوں سے ہمیشہ بدنام مسلمان بھی ہوتے ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ مسلم ممالک ان کے خلاف خاموشی ہے۔ کوئی بشار الاسد کو ہٹھا نا چاہتا ہے تو کوئی داعش کو، کسی کو کرد جنگجوؤں سے خطرہ تو کوئی النصرہ کی امداد کر رہا ہے۔ مگر ہو صرف ظلم رہا ہے آخر  انسانیت کی یہ تذلیل کب رکے گی مسلم امہ آخر کب ایک ہو کر اپنے دشمن کو پہچان کر اس کا خاتمہ کیا یہ خواب کبھی حقیقت کا روپ بھی دھارے گا۔ کیا کوئی مفاد انسانی جان سے زیادہ قیمتی ہو سکتا ہے؟ 
 
 
Back to content | Back to main menu