نوازشریف کی تاحیات نااہلی۔۔۔۔
تحریر۔ندیم حیدر
سپریم کورٹ کا نوازشریف کی تاحیات نا اہلی کے بارے میں فیصلہ آنے
کے بعد دلچسپ صورتحال ہے۔۔۔۔۔۔ عوام اور
سیاسی پارٹیاں اس پر منقسم نظر آتی ہیں۔۔۔ کوئی ڈھول پیٹ رہا ہے کہ چلو اچھا ہوا۔۔۔۔۔ہماری
جان چھٹی۔۔۔۔۔چور اُچکا۔ چور ابو نا اہل ہو گئے ۔۔۔۔تاحیات نااہل نوازشریف ۔۔وغیرہ وغیرہ۔
موجودہ
صورتحال کو ایک اہم سیاسی موڑ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا، یہ وہی نوازشریف صاحب ہیں
جن کے ملک واپس آنے تک محترمہ بینظیر بھٹو نے الیکشن ماننے سے انکار کیا۔۔۔اب وہی
نوازشریف فی الحال الیکیشن لڑنے کا
صرف سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔ اس نااہلی کی بہت سی وجوہات ہیں تاہم سب سے
بڑی وجہ پیپلز پارٹی سے تعلقات میں تبدیلی اور عدالت کو پارلیمانی معاملات میں ملوث کرنے جیسےفیصلے شامل ہیں ہے ۔سابق صدر آصف علی زرداری نے تو نوازشریف
کی نا اہلی کی وجہ ان کی کم عقلی قرار دیا ہے ۔ میثا ق جمہوریت پر مکمل عمل کیا
جاتا اور اٹھارویں ترمیم کے معاملے پر مسلم لیگ نواز پیپلز پارٹی کا ساتھ دیتی تو
آئین کے آرٹیکل 62 میں ترمیم کے بعدیہ سب نہ ہوتا جو کہ اب ہوا ہے۔
نوازشریف کی شامت تو آئی ہی ہے ان کی صاحبزادی مریم نواز کو بھی نہیں بخشا جاتا۔۔۔۔ ایک عورت کی تزلیل وہ بھی انتہا کی۔۔۔۔،ہمارا معاشرہ کس نہج پر پہنچ چکا ہے ۔۔۔۔۔۔مریم نواز کی خواجہ آصف کیساتھ ایک تصوریر جس کو مریم نواز نے بھی پسند کرتے ہوئے ری ٹوئیٹ کیااس پر سوشل میڈیا پر دی جانے والی عوام کی رائے ۔۔جس میں رائے کم اور گالی گلوچ زیادہ ہے جس کو یہاں بیان کرنےکے لئے میرے پاس مناسب الفاظ نہیں ہیں۔ شاید اپنی فتح منانے کا یہ انداز شاید ایک تبدیلی ہے یا پھر ماضی میں بھی ہم نے ایسا ہی کیا تھا۔ ارے بھائی بینظیر بھی ایک عورت تھیں ان کو مخالف سیاستدان کن الفاظ میں یاد کرتے تھے۔ شاید تاریخ خود کو دھرا رہی ہے مگر سوچنا اس بات کا ہے کہ تاریخ کے اس دھرانے کے کھیل میں ہمارا کیا کردار کیا ہے۔ خیر آزادی اظہار رائے کا دور ہے اور عوامی رائے اور اس کے طریقہ کار کا درست یا غلط ہونے کےفیصلہ عوام کو خود ہی کرنا ہے۔

سیاسی
جماعتوں کی اگر بات کریں تو جماعت اسلامی نے نااہل ہونے والےمیاں صاحب اور جہانگیر ترین کو استغفار
کا مشورہ دیا ہے ۔ توبہ ایک اچھی چیز ہے جس کے نتیجہ میں انسان کو اپنے گناہوں کی معافی بھی مل سکتی ہے اور بعض اوقات گناہ کے نتیجہ میں کفارہ بھی ادا
کرنا پڑتا ہے تاہم ایسالگ نہیں رہا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد اتنی آسانی سے رد بلاء ہو سکے گی۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی جماعت اسلامی کی جانب سے
ایک نہایت معصومانہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ ارے بھائی صرف نوازشریف نہیں۔۔۔بلکہ اب
تمام شرفاء اور معززین کو بھی عدالت
کے کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے دونوں ہاتھوں سے ملکی دولت کو لوٹا ہے ۔۔۔یہ
مطالبہ شاید نیا تو نہیں ہے کہ ہر سطح پر بلامتیازاحتساب کیا جائے،،،،تاہم ماضی میں اس پر
کبھی عمل نہیں ہوا۔ احتساب ہر سطح پر کہنا تو آسان ہے۔۔۔ مگر ایسا کرناشریف کو تاحیات
نا اہل کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔۔۔۔۔ ماضٰی میں نواز شریف صاحب سے زیادہ طاقتور اور
عوام میں مقبول لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف اس سے زیادہ سخت فیصلہ آچکا ہے اس کے نتیجہ میں لوٹوں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کے علاوہ کچھ نہیں ہوا۔
اگر اب بھی یہ فیصلہ فرد واحد کی حد تک رہے گا تو اس کا فائدہ کوئی خاص نہیں گا۔۔۔مسلم لیگ ن آئندہ آنے والے الیکشن میںمظلومیت کے نام پر ووٹ مانگے گی اور یہ سلسلہ
تو خیر شروع ہو چکا ہے۔ مسلم لیگ کیا کرے گی اس سے قطع نظر۔۔۔۔۔۔۔۔ قانون کوئی بھی ہو وہ
کسی ایک فرد واحد کے لئے نہیں ہوتا اس کا اطلاق سب پر نہ ہو تو اس کودرست نہیں کہا جاسکتا۔۔۔۔۔
اس
موقع پر پاکستان تحریک انصاف نے اس فیصلہکو ایک تاریخی قرار دیا ہے اور کرپشن کرنے والوں کو منتطقی انجام تک پہنچانے کا مطالبہ بھی کیا ہے کہ ابھی اڈیالہ جیل میں جانا باقی ہے اس کے ساتھ ساتھ پارٹی وفا داریاں تبدیل کرنے والوں کو خوش آمدید بھی کہا جارہا ہے۔ پیپلز
پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو کا ماننا ہے کہ سیاستدانوں کے فیصلے عوام کرے تو زیادہ اچھا ہے،،،
جو ہوا اس کی ذمہ دار مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف ہیں یعنی پیپلز پارٹی کے
نزدیک جو ہوا وہ درست نہیں ہوا۔۔۔۔۔ ورنہ وہ بھی اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرتی کہ
کرپشن کرنے والوں کا عبرتناک انجام ’’گو نواز گو’’ کا نعرہ تو بلاول بھی لگا چکے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے جہاں یہ اصولی بات ہے
وہیں احتطیاطی تدابیر بھی کیونکہ جس کو وہ آج اچھا
کہیں،،،،، وہ کل کو ان کے ساتھ
بھی ہو سکتاہے۔

سپریم کورٹ
کے اس فیصلہ کے نتیجہ میں بہتری اسی صورت ممکن ہے کہ احتساب کا اگر کوئی سلسلہ
شروع کیا گیا ہے تو اس کو جاری رکھا جائے۔ اگر یہ سلسلہ نواز شریف صاحب کی حد تک
رہا اور ملک کی لوٹی ہو ئی دولت میں سے کچھ واپس بھی نہ آیا تو شاید تارخ میں اسکو فیصلہ تو لکھا جائے گا مگر انصاف نہیںْ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ نوازشریف
کے جانے کے بعد کوئی مضبوط لیڈر اگلا وزیر
اعظم بنے ،،،،،،،چاہے اس کو تعلق کسی بھی پارٹی سے کیوں نہ ہو۔اگر کوئی کمزور شخص سامنے
آیا جو کہ کہیں سے بھی ڈکٹیشن لے کر فیصلے
کرے گاتو ہمارے ملک لئے بہتر نہیں۔ ۔۔اور آخر میں یہ حسرت ہے کہ اے کاش ایسا بھی وقت
آئے کہ سچ میں عوام اپنے فیصلے خود کریں نہ کہ عدالت کو کسی کو نا اہل کرنا پڑے۔۔۔۔۔ اور تبدیلی کے نعرے لگانے والے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کو خوش آمدید کہیں یہ سب کچھ تب ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ جب عوام بھنگڑے ڈالنے کیلئے تو تیار ہے جیسے کوئی بندر کا تماشہ لگا ہو مگر خود فیصلہ کر نے کا ابھی ہم ارادہ نہیں رکھتے۔۔۔۔۔