Three muslims burnt, Muslims burnt by hindus, Hindus killing muslims, Muslims died in india - Youth Forum

Search
Go to content

Main menu:

Three muslims burnt, Muslims burnt by hindus, Hindus killing muslims, Muslims died in india

بھارت ادھمپور میں شدت پسند ہندؤں نے تین مسلمانوں کو زندہ جلاڈالا ۔
جموں صوبہ میں گائے کے گوشت کے معاملہ پر ہونے والے فسادات  میں دن بدن شدت آرہی ہے ۔ جمعہ کی شام کو شرپسند ہندؤں نے ٹرک کے اندر پٹرول بم پھینک کر تین مسلمانوں کی جلانے کی کوشش کی جس پر انہوں نے جان بچانے کے لئے باہر چھلانگ لگا دی تو حملہ آوروں نے انہیں شدید زدو کوب کیا اور ان کے کپڑوں میں آگ لگا  دی اور انہیں وہاں مرنے کیلئے چھوڑ کر چل دیے جن میں سے ایک جموں میڈیکل کالیج میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ پولیس نے معاملہ درج کر کے حملہ میں ملوث تین افراد کو گرفتار کرکے ان کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ اس دوران حملہ میں زخمی ہوئے افراد کے لواحقین نے اننت ناگ میں احتجاج کرتے ہوئے حملہ آوروں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔جمعہ کی شام 35 سالہ شوکت احمد ڈار غلام محمد ڈار ساکن برنہال، 17 سالہ زاہد احمد ولد غلام رسول بٹہ ٹینگو اور 22 سالہ رمیض احمد ایک ٹرک زیر نمبر JK03D-1142 میں سوار ہو کر دہلی سے سرینگر کی طرف آ رہے تھے جس دوران تینوں نے ادھمپور کے چنانی علاقہ میں رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔ معلوم ہوا ہے کہ اس دوران ایک مشتعل ہجوم نے گاڑی کا فرنٹ شیشہ توڑا جس کے بعد اس کے اندر پیٹرول بم پھینکا۔ گاڑی پر بم لگتے ہی آگ کے شعلے بلند ہوئے جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوئے تینوں نے چھلانگ لگائی تاہم حملہ آوروں نے انہیں روکا اور مارپیٹ کے بعد ان کے کپڑوں میں آگ لگائی تاہم گاڑی ڈرائیور رمیض احمد بٹ نے کمال جرات ایک گاڑی کے نیچے چھپ کر اپنی جان بچا لی۔

آگ لگنے سے گاڑی کو مکمل نقصان پہنچا ہے۔ دریں اثنا اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی ایک ٹیم جائے واردات پر پہنچی اور انہوں نے دو زخمیوں سمیت تینوں افراد کو اپنی تحول میں لے لیا۔ اس دوران دو زخمیوں کو ادھمپور اسپتال پہنچایا گیا جہاں ان کی حالت نازک دیکھ کر دونوں کو جی ایم سی منتقل کیا گیا جہاں ایک کی حالت ناز بنی ہوئی ہے۔ پولیس نے دوران شب ہی اس واقعہ میں ملوث ملوث تین افراد بھلا بہادر سنگھ، سندھر سنگھ اور سنیل سنگھ ساکن سمھبل کو گرفتار کیا گیا اور ان کے ساتھ بڑے پیمانے پر پوچھ تاچھ کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد بیرون ریاستوں سے سرینگر آ رہی کشمیری ڈرائیوروں نے اپنی گاڑیوں کو لکھن پورہ میں روک دی اور احتیاط کے بطور انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس دوران واقعہ کی اطلاع جونہی ان کے علاقہ تک پہنچ گئی تو زخمی ہوئے افرد کے لواحقین نے اننت ناگ کورٹ کمپلیکس کے باہر احتجاج کرتے ہوئے حملہ آوروں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
 
 
 
Back to content | Back to main menu